Rasail Ibn al-Arabi | Vol – 3 | al-Jalala | al-Qasam al-Ilahi | al-Jalal Wal jamal | Arabic + Urdu

Rasail Ibn al-Arabi | Vol – 3 | al-Jalala | al-Qasam al-Ilahi | al-Jalal Wal jamal | Arabic + Urdu

-33%Featured

 1,350


Arabic Title: كتاب الجلالة, القسم الالهي, كتاب الجلال والجمال

Urdu Title: رسائل ابن العربی
English Title: Rasail Ibn al-Arabi (June 2021)
Author: Shaykh al-Akbar Ibn al-Arabi
Editor: Abrar Ahmed Shahi
Translated by: Abrar Ahmed Shahi
Publisher: Ibn al-Arabi Foundation
Pages: 272
Paper Type: 70gsm IK imported
Printing: Offset printing
Year of Publication: 2021
Edition: 1st, June 2021
Language: Arabic + Urdu
Binding: Hardbound مجلد
Dimensions: 5.5*8.5

Weight: 0.50 kg


 1,350

Add to cart
Buy Now

آج ہم آپ احباب کے سامنے شیخ اکبر محی الدین محمد بن علی ابن العربی الطائی الحاتمی کے تين رسائل: كتاب الجلاله، كتاب الجلال والجمال اور كتاب القسم الالهي تحقیق شدہ عربی متن، سلیس اردو ترجمے اور منتخب مقامات کی شرح کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ یہ رسائل ہمارے اُس مشن کا حصہ ہیں جس کا مقصد اِس ابدی اور لا فانی خدائی پیغام کو لوگوں کے سامنے اُن کی اپنی زبان، سلیس انداز اور تحقیق شدہ متون کے ساتھ پیش کرنا ہے۔

کتاب الجلالہ تعارف

یہ رسالہ اسم جلالہ لفظ اللہ کی تحقیق پر لکھا گیا ہے، اس کی ابتدا میں شیخ لکھتے ہیں: “اما بعد: اِس کتاب میں میں لفظ جلالہ (اسم اللہ) کے چند اسرار اور اشارات کا تذکرہ کروں گا، عرض ہے: بیشک “اسم اللہ” دیگر اسما کے لیے اس ذات کی مانند ہے جو صفات سے موصوف ہو؛ ہر اسم اِسی میں درج ہے، اِسی سے نکلتا ہے اور اِسی کی جانب لوٹتا ہے۔ محققین کے نزدیک یہ تعلق کے لیے ہے، تخلق کے لیے نہیں، اور حقیقت میں یہ (اسم) ذات پر دلالت کرتا ہے، کسی اور پر نہیں۔ ”

یعنی اِس رسالے میں اسم اللہ کے حقائق کا بیان ہے کہ کیسے یہ اسم تمام اسمائے الہیہ کا جامع ہے اور کیسے ہر اسم اس میں مندرج ہے۔ آپ کے بقول اس اسم کے حروف چھ ہیں: “ا ل ل ا ہ و ” اِن میں سے چار لکھنے میں ظاہر ہوتے ہیں اور چار ہی بولنے میں ظاہر ہوتے ہیں جبکہ اس میں ایک ایسا حرف بھی ہے جو نہ لکھنے میں ظاہر ہوا اور نہ بولنے میں۔ مزید آپ نے اس کے حروف پر بات کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اس کے ہر ہر حرف کا کیا معنی ہے، مثلا اسم اللہ کے الف سے کیا مراد ہے، پہلا لام کس پر دلالت کرتا ہے، دوسرا لام کس لیے ہے اور ھا سے کیا مراد ہے۔

آگے آپ نے استوائے الہی اور استوائے رحمانی میں اسم اللہ اور اسم الرحمن کا فرق بتایا ہے۔ لفظ اللہ کی قوت پر روشنی ڈالی ہے کہ فرعون نے بھی اسم الرب کا استعمال کیا وہ اسم اللہ استعمال نہ کر سکا۔ مزید اسم اللہ کے حروف کے راز اور الوہیت اور ربوبیت کے فروق کا بیان ہے۔ اس کے بعد کلمہ لا الہ الا اللہ کا بیان ہے۔ اور اس کلمے کی حیرت پر اس رسالے کا اختتام ہے۔

كتاب الجلال والجمال تعارف

شیخ اکبر نے یہ رسالہ جلال و جمال الہی کے معانی میں لکھا ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں فرماتے ہیں: بے شک اہلِ تصوف کے محققین علمائے ربانی نے جلال و جمال پر کافی دھیان دیا ہے، ان میں سے ہر ایک نے اپنے حال کے مطابق اس موضوع پر بات کی ہے۔ ان میں سے اکثر نے اُنسکو جمال سے جبکہ ہیبت کو جلال سے جوڑا ہے۔ … جلال اور جمال اللہ تعالی کے دو وصف ہیں، جبکہ ہیبت اور اُنس انسان کے وصف ہیں، سو جب عارفین کے حقائق جلال کا مشاہدہ کرتے ہیں تو خوف سے سمٹ جاتے ہیں، لیکن جب جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں تو مانوس ہو کر پھیل جاتے ہیں۔ اب میری خواہش ہے کہ ان دونوں حقیقتوں کے بارے میں توفیق الہی سے کچھ بیان کروں۔

شیخ کے نزدیک جلال الہی وہ معنی ہے جو حق کی جانب لوٹتا ہے لہذا مخلوق کو اس کی معرفت نہیں۔ مخلوق کے پاس صرف جمال الہی کی معرفت ہے جس کے دو رخ ہیں: ایک ہیبت اور دوسراانس۔ ہیبت اس جمال کا جلال ہے اور اُنس اس جمال کا جمال ہے۔ یہاں شیخ نے تفصیلا بات کی ہے اور بتایا ہے کہ کیسے قرآن میں اس جمال کے دونوں پہلوؤں کے اشارات ملتے ہیں۔ اگر ایک آیت میں جلال کا بیان ہے تو اسی جیسی کوئی دوسری آیت اس جمال کو سامنے لاتی ہے۔ اس رسالے میں آپ کا منہج یہ ہے کہ پہلے ایک موضوع پر جلال والی آیت ذکر کرتے ہیں، اور جب انسان اس کی ہیبت تلے مغلوب ہو جاتا ہے تو اسی موضوع سے ملتی جلتی جمال والی آیت سامنے لا کر اسے انس کی جانب لے کر جاتے ہیں۔ جلال و جمال کے حوالے سے آپ نے جن آیات سے استشہاد کیا ہے انہیں اس رسالے میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔

قسم الہی تعارف کتاب

یہ کتاب شیخ نے قرآن مجید میں آنے والی ان پانچ قسموں پر لکھی ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اسم الرب سے کھائیں۔ مقدمے میں لکھتے ہیں: بیشک اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بہت سے امور پر مختلف مقامات میں مخلوقات کی مختلف انواع کی قسمیں کھائی ہیں لیکن اپنے رب ہونے سے قسم صرف پانچ جگہ کھائی۔ اور یہ رسالہ انہی اقسام کے اسرار ومعانی کا بیان ہے۔

سب سے پہلے اسمائے الہیہ الحسنی کا باب ہے۔ شیخ کے نزدیک اسمائے الہیہ معنی سے مجرد وہ الفاظ نہیں جو کسی مسمی کی شناخت کے لیے وضع کیے جاتے ہیں بلکہ یہ الہیت میں الوہیت کے معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ اور ہمیں یہ اسما اس کے بتانے سے معلوم ہوئے۔ ان اسما کے تین مراتب ہیں۔ 1- ذات پر دلالت، 2- صفت پر دلالت، 3 – فعل پر دلالت۔ لیکن چند اسما ایسے بھی ہیں جو ان تینوں مراتب میں آتے ہیں اور اسم الرب بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اسم الرب کے پانچ معنی ہیں۔ 1- ثابت، 2- مصلح، 3- مربی، 4- سید و آقا، 5- مالک۔ اور اللہ تعالی اس اسم کے ان تمام معانی سے موصوف ہے۔ اگرچہ یہ تینوں مراتب ذات، صفت اور فعل پر دلالت کرتا ہے لیکن قرآن کریم میں اس سے قسم صرف مرتبہ صفت و فعل میں ہے، کہ مرتبہ ذات سے مخلوق کے لیے قسم نہیں کھائی جا سکتی۔

اس کے بعد ابواب کتاب کی ابتدا اور ان اقسام کے اسرار ہیں۔ اللہ سمجھ کی توفیق دے۔ آمین

Weight 0.5 kg
Binding

Book Size

Edition

Paper type

Printing Quality

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Rasail Ibn al-Arabi | Vol – 3 | al-Jalala | al-Qasam al-Ilahi | al-Jalal Wal jamal | Arabic + Urdu”