







Book Description
شیخ اکبر محیی الدین محمد ابن العربی نے یہ کتاب سن 599 ہجری میں شہر مکہ میں اپنے قیام کے دوران حرم مکی میں لکھی، اور یہ آپ کا اِس مقدس زمین کا پہلا سفر حج تھا، اُس وقت آپ کی عمر 39 برس تھی، اس دور میں آپ اپنے فن اور ذہنی صلاحیتوں کے عروج پر تھے۔ اِس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سن 600 ہجری کے اوائل میں اسے مکمل کیا، جیسا کہ اس کے صفحہ اختتام پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کی دوسری جلد ہے، یہ جلد نماز کے ابواب کا احاطہ کرتی ہے۔ شیخ نے اس کی پہلی جلد کو طہارت سے مخصوص کیا۔ اور اس دوسرے جلد کے بعد نماز کے ابواب کو مکمل کرتے ہوئے تیسری جلد لکھنا شروع کی۔ آج ہمیں اس کتاب کی کل جلدوں کی تعداد تک معلوم نہیں، کیونکہ اِن میں سے صرف دوسری جلد ہی ہم تک پہنچی ہے، میرے علم کے مطابق باقی جلدیں حوادث زمانہ کی نظر ہو گئیں۔
اِس دوسری جلد کا مواد اِس کے مصنف کے وسیع افق اور فقہ و حدیث کے علوم پر گہری گرفت کا عکاس ہے۔ اور یہ سب ان راستوں میں واضح ہے جن پر شیخ محو سفر رہے، آپ نے اِس مجال کے بزرگوں کی تصانیف پر گہری نظر ڈالی ہے۔ جیسا کہ آپ حدیث نبوی سے استشہاد کے بھی حریص نظر آتے ہیں۔آپ انہیں اِن کے ذرائع سے حرف بہ حرف نقل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے بھی اِس رجحان کی پیروی کی، آپ کی مرضی کا احترام کیا، اور مراجع میں احادیث کے حوالہ جات کو بالتفصیل لکھا، جہاں کہیں لفظی اختلاف پایا اُس کی وضاحت کی۔ آپ اس بات کے بھی حریص نظر آئے کہ متقدمین آئمہ کی آرا ادب کے دائرے میں ڈسکس کی جائیں۔
المحجہ البیضاء کا مطالعہ
عبد العزیز سلطان المنصوب
شیخ اکبر محی الدین محمد ابن العربی کو عرب اور مسلم صوفیا میں سے سب سے زیادہ تحریری کام کرنے والا مصنف سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین نے ان کی تصانیف کی تعداد 364 سے زائد بتائی ہے، بلکہ گمشدہ تصانیف کو مستثنیٰ کرنے کے بعد بھی یہ تعداد 550 تک جا پہنچتی ہے، جیسا کہ ڈاکٹر عثمان یحییٰ نے ذکر کیا۔ بعد میں ابن العربی سوسائٹی کے مطابق میسر مخطوطات کے حساب سے یہ تعداد 150 کے لگ بھگ ہے۔
آپ کی تصانیف مختلف موضوعات یعنی اسلامی عربی علوم کے متفرق شعبوں کو شامل کیے ہیں، جن میں تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، اور ادب وغیرہ شامل ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر لوگ شیخ کے اس پہلو سے ناواقف ہیں وہ انہیں صرف علم تصوف کا شہسوار ہی سمجھتے ہیں؛ کیونکہ آپ کی اکثر تصانیف اسی شعبے میں ہیں اور محققین و ناشرین کی دلچسپی بھی آپ کی صوفیانہ تصانیف میں ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف مخالف ایک جماعت نے شیخ اکبر کے خلاف علی الاعلان دشمنی کا موقف اختیار کیا، یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ شیخ شریعت کے التزام میں کوتاہی کے مرتکب ہیں۔
جیسا کہ میں نے فتوحات مکیہ کے تحقیقی مقدمے میں اس جانب اشارہ کیا تھا کہ صوفیا کی ان تحریروں کا منظر عام پر نہ آنے سے عربی، اسلامی اور انسانی مکتبات کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ کہ علم کے متلاشی محققین نے اِن اہم شعبوں میں اِن کے علم سے مزید جاننے کا موقع کھو دیا ہے۔ میں جامعات کے تحقیقی مراکز، ریسرچ انسٹی ٹیویٹس، صوفیائے کرام، محققین سکالرز، اور اشاعتی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ شیخ کی تمام کتب کی نہ صرف تحقیق کریں بلکہ ان کی اشاعت میں اپنا کردار بھی ادا کریں۔
مجھے خوشی ہے کہ ’’ابن العربی فاؤنڈیشن، پاکستان‘‘ کے موسس، محترم استاذ ابرار احمد شاہی صاحب نے اِس سمت پہلا قدم اٹھایا ہے۔ وہ اس طرح کہ ہمیں اس کتاب ’’المحجہ البیضاء” کا ایک قلمی نسخہ فراہم کیا، جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، یہ کتاب اسلامی فقہی مذاہب کے آئمہ کے ارشادات کے مطابق اسلامی فقہ اور دینی آداب کے موضوع سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اِس کی بنیاد احادیث نبویﷺ پر ہے۔








Reviews
There are no reviews yet.